Parenting Attitude that Makes the Difference

السلام علیکم

آج کا سیشن، اور اس کا موضوع اس دنیا کا اہم ترین موضوع ہے۔

کیونکہ پیرنٹنگ یا والدین کی پرورش ایسا اہم کام ہے جس میں انسانوں کی شخصیت بنائی جاتی ہے۔ یا سادہ ترین الفاظ میں، ہمارا معاشرہ آنے والے دنوں میں جن انسانوں سے آباد ہو گا، ان افراد کو تیار کیا جاتا ہے۔

بچے کی زندگی کے ابتدائی پانچ سال انتہائی اہم ہوتے ہیں اور ابتدائی پانچ سالوں میں بچے کی زندگی میں سب سے بڑا کردار ماں باپ کا ہوتا ہے۔ ان سالوں میں کسی بھی فرد کی شخصیت، مزاج، عادات و اطوار کا ابتدائی خاکہ تیار ہوتا ہے۔

محترمہ کہکشاں صاحبہ کے پیش کردہ تمام نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اور انہوں نے برین فنکشنگ brain functioning کے نقطۂ نظر سے اصل محرکات (root causes) کا ذکر کیا ہے۔ ان کی تمام باتوں سے بھرپور اتفاق ہے۔ خاص طور پر آپ کا یہ جملہ ایک پورے سیشن کا متقاضی ہے: بڑی جنگ جیتنے کے لئے چھوٹی جھڑپیں ہارنی پڑتی ہیں۔

دوسرے مہمانِ گرامی جناب نوید قمر صاحب نے والدین کے کردار پر گفتگو کا آغاز ایک سوال سے کیا۔ جس پر بہت فعال انداز میں جوابات موصول ہوئے۔ آپ نے سیر حاصل وضاحت کی اور مختلف مثالوں سے والدین کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

میرے نزدیک والدین اور بچوں کا تعلق بہت چیلنج والا تعلق ہے کیونکہ والدین خود ایک نسل سے تعلق رکھتے ہوئے اگلی نسل کے لئے ایک فرد کو تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی یہ امر خود والدین کے لئے اپنی جگہ ایک امتحان ہوتا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ نصف صدی میں ہر پہلو میں اس قدر تیزی سے تبدیلی آئی ہے کہ اس تبدیلی سے ہم آہنگ ہونا کافی مشکل کام تھا اور ہے۔

تو ایک جانب والدین کو بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بھی چلنا ہے اور اپنے سے آئندہ زمانے کے لئے افراد تیار کرنے ہیں اور ان افراد کے ساتھ اپنا رابطہ بھی برقرار رکھنا ہے۔

یہاں لفظ رابطہ ایک کلیدی لفظ ہے۔

اس موضوع کو چند جملوں یں سمیٹیں تو یوں کہہ لیں:

اپنے بچے سے رابطے میں رہیں، زبانی، ذہنی، جذباتی رابطہ۔

اس کی ذات سے قریبی رابطہ رکھیں۔

اس رابطے میں خود اپنی قدر جانیں کہ اپنے بچے کے لئے اس کائنات کا سب سے مخلص ترین فرد “آپ” ہیں۔

اس رابطے کے لئے ایک معیار یا criteria یہ ہے کہ:
جب آپ کے بچے کو کوئی مشکل درپیش ہو، وہ کوئی غلطی کرے، اس کے ہاتھوں کوئی نقصان ہو جائے (جیسے کھلونا ٹوٹنا/ کوئی چیز گم ہو جانا)، کسی سے لڑائی ہونا، تو یہ بات بتانے کے لیے آپ کے بچے کے ذہن میں پہلا فرد جو آتا ہے، کیا وہ آپ ہیں؟

کیا آپ کا بچہ بلا جھجھک آپ سے اپنی غلطی یا نقصان کا اعتراف کر سکتا ہے؟

اس تعلق یا رابطے کی استواری کے بعد پیرنٹنگ کے اگلے مراحل آتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *